اہم ترین

غیر قانونی مقیم تارکین وطن کا انخلا؛ افغان طالبان دشمن کی زبان بولنے لگے

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے الزام لگایا ہے کہ غیر قانونی تارک وطن کے معاملات کو پاکستان اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نمائندہ برائے افغانستان روزا اوتن بائیفا نے امیر خان متقی سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران امیر خان متقی نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے انخلا اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔۔

طالبان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کے ایکس(سابق ٹوئٹر) پر جاری ایک اعلامیے کے مطابق امیر خان متقی نے کہا کہ پاکستان مختلف مقاصد کے حصول کے لیے انسانی اور مہاجرین کے مسائل کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے لوگوں، سیاست دانوں اور ماہرین کی بات تک نہیں سن رہا۔

اس موقع پر یو این سیکریٹری جنرل کی نمائندہ برائے افغانستان نے کہا کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور واپس آنے والے افغان مہاجرین کی مدد کے لیے عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر اور جرائم کی شرح میں اضافے میں غیر قانونی تارکین وطن کے ملوث ہونے کے واضح شواہد ملنے کے بعد حکومت نے اہم فیصلے کئے تھے۔

نگراں وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ تمام غیر قانونی تارکین وطن کو 31 اکتوبر تک ملک سے چلے جانے کا حکم دیا تھا۔ یکم نومبر سے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے کو واپس بھجوانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔۔

پاکستان