اہم ترین

افغانستان میں چھاتی کے سرطان کی شرح میں نمایاں اضافہ

 افغانستان میں خواتین میں چھاتی کے کینسر کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے

ہرات میں قائم کینسر سینٹر کے سربراہ فاروق احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ چھاتی کے کینسر میں بروقت علاج اور آگاہی سے محرومی 70 فیصد سے زیادہ مریضوں کو موت سے ہم کنار کردیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ، “زیادہ تر خواتین چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ بدقسمتی سے ان کی آگاہی بہت کم ہے۔”

اس دوران چھاتی کے کینسر سے متاثرہ خواتین نے اپنے معاشی مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہنگا ہونے کی وجہ سے اس بیماری کا علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتی۔

نگار نامی ایک مریضہ نے کہا، “میرے پاس پاکستان جانے کے پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے میں یہاں آئی ہوں۔میں کسی سے پیسے ادھار لے کر آئی ہوں تاکہ یہاں سے دوائی خرید سکوں۔”

فاطمہ نامی ایک مریضہ نے کہا، “ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ مجھے سرجری کی ضرورت ہے۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اگر وہ یہاں میری سرجری کرتے ہیں تو بہت اچھا ہوگا۔ اگر نہیں، تو میرے پاس اپنے گھر واپس جانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔”

ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ چھاتی کے کینسر کے حوالے سے لاپرواہی اور اس مرض کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا۔

ہرات کے کینسر سینٹر کے مطابق صوبے میں پانچ سالوں کے دوران کینسر کے 12 ہزار سے زائد مریض اس مرکز میں علاج کے لیے آچکے ہیں۔

پاکستان