اہم ترین

مصنوعی ذہانت سے بے روزگاری میں اضافہ نہیں ہوگا، تحقیق

مصنوعی ذہانت کے تین علمبرداروں میں سے ایک، پروفیسریان لیکون نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلائی جارہی ہیں، اس سے نہ ہی ملازمتیں مستقل طور پر ختم ہوگی اور نہ یہ ہی دنیا پر قابض ہونے جارہی ہے۔

پروفیسریان لیکون کا کہنا ہے کہ کچھ ماہرین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے انسانیت کے لیے خطرہ بننے کا خدشہ مضحکہ خیز ہے۔ “اگرچہ کمپیوٹرز کو انسانی ذہانت سے آگے بڑھنے میں ابھی کئی سال درکار ہیں، لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ محفوظ نہیں ہے تو آپ اسے نہ بنائیں۔”

بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، کچھ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو غیر قانونی قرار دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پروفیسر لیکون اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی بنیادی کمپنی میٹا میں چیف سائٹسٹ برائے مصنوعی ذہانت کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ساتھی سائنسدانوں سے متفق نہیں ہیں کہ مصنوعی ذہانت نسل انسانی کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “کیامصنوعی ذہانت کسی دن دنیا پر راج کرنے کے قابل ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں!یہ صرف انسانی فطرت کا مشینوں کے حوالے سے ایک خودساختہ نظریہ ہے۔ مصنوعی ذہانت تحقیق کو محدود رکھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔”

انہوں نے ایک دلیل دیتے ہوئے کہا، “یہ ایسا ہی ہے کہ آپ 1930ء میں کسی سے پوچھیں کہ آپ ٹربو جیٹ کو کیسے محفوظ بنائیں گے؟ جس طرح انسانی سطح کی مصنوعی ذہانت ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہے بالکل اسی طرح ٹربو جیٹ بھی 1930ء میں ایجاد نہیں ہوئے تھے۔”

انہوں نے پیشین گوئی کی کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بالآخر ٹربوجیٹس کی طرح قابل اعتماد اور محفوظ ہو جائے گا۔

کچھ کاروباری اداروں نے اس دعوے کے نتیجے میں مخصوص ملازمتوں کے لیےانسانی خدمات کا حصول ترک کر دیا ہے کیوں کہ مصنوعی ذہانت بہت سی ملازمتوں کی جگہ لینے کی صلاحیت ہے۔

پروفیسر لیکون کا اصرار ہے کہ یہ بہت سارے لوگوں کو مستقل طور پر کام سے دور نہیں رکھے گا۔ لیکن کام بدل جائے گا کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ اب سے 20 سال بعد سب سے نمایاں ملازمتیں کیا ہوں گی۔

پاکستان