اہم ترین

ورلڈ کپ تک بطور کپتان بابر کی حمایت کرنی چاہیے ، محمد حفیظ

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کے رکن محمد حفیظ کہتے ہیں کہ بابر کی ورلڈکپ کے لیے مکمل حمایت کرنی چاہیے، ورلڈکپ کے بعد کپتان کے حوالے سے ضرور سوچیں

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران حفیظ نے کہا کہ ہمیں ایشیا کپ میں اپنی ناکامی کو تسلیم کرنا ہوگا۔کیونکہ ناکامی تسلیم کرنے پر ہی ہم ۤگے بڑھ سکیں گے۔ گزشتہ 2 ، 3 سال کی گئی منصوبہ بندی میں خامیاں ہوں گی۔ٹیم میں شامل کھلاڑی نئے نہیں ، یہ کافی عرصے سے قومی تیم میں کھیل رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ذمہ داری لینی ہوگی۔

محمد حفیط نے کہا کہ بھارت میں جاکر آپ کو حوصلے سے کھیلنا پڑتا ہے۔ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے میری رائے ہے کہ ٹیم کے کھلاڑیوں اور منیجمنٹ کو زیادہ تبدیل نہیں کرنا چاہیے، اگر کوئی کھلاڑی فٹنس مسائل کا شکار ہے تو اس کی جگہ متبادل کھلاڑی لانا چاہیے۔

کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے سابق کپتان نے کہا کہ ایشیا کپ سے پہلے سارے کھلاڑی لیگ کرکٹ کھیل رہے تھے ، اس لئے بڑے ایونٹ کے دوران انہیں فٹنس مسائل سے دوچار ہونا ہی تھا۔ پچھلی مینجمنٹ کو سوچنا چاہیے تھا انجریز کی صورت میں لڑکے بڑا ایوٹ کیسے کھیلیں گے ۔۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ان فٹ ہونے والے کھلاڑیوں کا ہمیں پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔۔

محمد حفیظ نے کہا کہ مینجمنٹ سے سوال ہونا چاہیے کہ ہم نے نیدرلینڈ اور افغانستان کے خلاف بینچ اسٹرینتھ کیوں نہیں آزماٸی، کٸی کھلاڑی صرف دورہ کرکے واپس آگٸے۔۔ 3 ماہ سے قومی ٹیم کے میچ نہ ہارنے کا یہ مطلب نہیں بھارت سے اس بری طرح ہار جاٸیں، بھارت سے میچ میں شکست نے پاکستان ٹیم کو ذہنی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔

بطور کپتان بابر اعظم کی کارکردگی کے حوالے سے محمد حفیظ نے کہا کہ جب ٹیم کے فائنل میں پہنچنے پر کپتان کو قابل تحسین قررار نہیں دیتے تو پھر ناکامی کی ذمہ داری بھی اس پر نہ ڈالیں۔ بابر کی ورلڈکپ کے لیے مکمل حمایت کرنی چاہیے، ورلڈکپ کے بعد کپتان کے حوالے سے ضرور سوچیں۔۔

پاکستان