اہم ترین

پیپسی آلودگی پھیلارہی ہے، امریکا میں مقدمہ درج

امریکی ریاست نیویارک نے دنیا بھر میں مشہور کاربونیٹڈ ڈرنک پیپسی بنانے والی کمپہنی پر پلاسٹک کی بوتلوں سے ماحول کو آلودہ کرنے کا مقدمہ درج کرادیا۔۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ تھیلیاں اور بوتلیں ٹوٹ پھوٹ کے دوران پلاسٹک کے خردبینی ڈرات پھیلتے ہیں۔ان کی موجودگی پینے کے پانی اور مچھلیوں کے گوشت میں بھی ثابت ہوئی ہے۔ یہ ذرات بانجھ پن ، آنتوں کی سوزش اور اعصابی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔۔

اس کی پیکیجنگ کے انسانی صحت اور ماحول کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پیپسی کو دریائے بفیلو میں آلودگی کا ازالہ کرے، اس کی ایک مرتبہ ہی قابل استعمال کی پیکیجنگ میں انتباہی لیبل منسلک کرے اور جرمانے کے ساتھ ساتھ معاوضہ بھی ادا کرے۔۔

ریاست نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز (Letitia James) نے پیپسی انکارپوریٹڈ کے خلاف دائر مقدمے سے متعلق کہا کہ نیویارک کے دریائے بفیلو پلاسٹک بوتلوں سے آلودگی بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی آلودہ ہوتا اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچتا ہے۔۔

لیٹیشیا جیمز کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کمپنی اتنی بڑی نہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کی مصنوعات ہمارے ماحول اور صحت عامہ کو نقصان نہ پہنچائیں، کوئی اس بات کی فکر نہ نہیں کررہا کہ پینے کے پانی میں پلاسٹک شامل ہورہا ہے، پلاسٹک کا کوڑا پانی کے قدرتی ذخائر کے کناروں پر پھینکا جارہا ہے یا یہی آلودگی جنگلی حیات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایسی بڑی کارپوریشنوں کا مقابلہ کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گا جو نیو یارک اور ہماری زمین کی صحت اور حفاظت کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔۔۔

نیو یارک میں قائم پیپسی کو کے کارخانے میں 85 سے زیادہ مختلف مشروبات کے برانڈز اور 25 اسنیک فوڈز تیار ہوتی ہے۔ کمپنی کے تمام مشروبات اور اسنیکس پلاسٹک کی ان تھیلیوں اور بوتلوں میں فروخت کی جاتی ہیں جو صرف ایک ہی بار قابل استعمال ہوتی ہیں۔۔

نیویارک میں 2022 کے سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دریائے بفیلو کے کنارے پلاسٹک کے کچرے کا 19 فیصد پلاسٹک کچرا پیپسی کو کمپنی کی مصنوعات کی وجہ سے ہے۔۔

دوسری جانب پیپسی کو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمپنی پلاسٹک میں کمی اور ری سائیکلنگ کے بارے میں سنجیدہ ہے، لیکن آلودگی کم کرنے کے عمل میں صارفین کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ بھی ضرروری ہے۔۔

پاکستان