اہم ترین

نگراں کابینہ کے اثاثے؛ 7 ارب کی بھیڑ بکریاں ، ڈیفنس میں 45 لاکھ کا گھر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگران وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیل جاری کی ہے ۔۔جس میں اثاثوں کی مالیت حیران کن بتائی گئی ہے۔۔

الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ سمیت تمام وزرا کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں جس کے مطابق داخلہ کا قلمدان سنبھالنے والے سرفراز بگٹی ارب پتی ہیں لیکن انہیں یہ سب ان کے والد سے ملا ہے۔۔

نگراں وزیر اعظم

انوار الحق کاکڑ کے پاس کوئی گاڑی یا بیرون ملک کوئی کاروبار نہیں لیکن ان کے بینک اکاؤنٹ میں یا ان کے پاس نقد چار کروڑ 77 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ہے۔ ان کی اہلیہ کے پاس 10 تولے سونے کے زیورات، اور گھر میں قابل استعمال اشیا کی مالیت چار لاکھ روپے ہے۔

اس کے علاوہ انہیں قلعہ سیف اللہ میں 20 ایکڑ زمین ورثے میں ملی، ان کے پاس ایک کان کن کمپنی میں صرف 100 حصص ہیں، جن کی مالیت 50 ہزار روپے ہے۔

سرفراز بگٹی

الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں کے مطابق نگراں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کے پاس 90 اونٹ، آٹھ ہزار 870 بھیڑیں، چار ہزار 60 بکریاں، 400 گائیں، 80 بیل اور 86 بھینسیں ہیں، 7 ارب روپے مالیت کے یہ تمام مویشی انہیں ان کے والد کی جانب سے ورثے میں ملے ہیں۔۔

اس کے علاوہ ان کے پاس ایک کروڑ 2 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی، سوئی میں ایک سی این جی اسٹیشن میں پارٹنر شپ، ملتان میں دو کنال کے مکان میں حصہ اور ایک اپارٹمنٹ ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس 74 لاکھ 20 ہزار روپے کی نقد رقم بھی ہے۔ گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمت 68 لاکھ روپے ہے۔

شمشاد اختر

نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر سابق گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ اانہوں نے والد کی طرف سے دو لاکھ روپے کا سونا ملا ہے اور ان کے پاس گھریلو سامان بشمول فرنیچر کی مالیت دو لاکھ روپے ہے۔

شمشاد اختر کا اسلام آباد میں ایک پلاٹ، اور والد کی طرف سے تحفے میں ڈی ایچ اے کراچی میں ایک مکان ہے۔جس کی مالیت انہوں نے 45 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ ان کے پاس تقریبا 22 لاکھ 90 ہزار روپے کے تحفے ہیں اور 58 لاکھ روپے نقد یا بینک اکاؤنٹ میں ہیں۔ البتہ ڈاکٹر شمشاد کے ٹی بلز اور اسٹاک میں 13 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہے۔ وہ بیرون ملک سے دو ارب روپے سے زائد کے اثاثے ملک میں لائی ہیں۔

پاکستان