اہم ترین

فولڈایبل اسمارٹ فون کی ریس  سام سنگ اور گوگل آمنے سامنے

فولڈنگ فونز کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اب موبائل بنانے والی کمپنیز کے درمیان مقابلہ بھی سخت ہو رہا ہے اور یہ یقیناً صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

گوگل فولڈنگ فون مارکیٹ میں سام سنگ کے پہلے حقیقی حریف کے طور پر سامنے آگیا ہے۔ تاہم، فولڈنگ فون کی کئی سال پہلے بنیاد ڈالنے والے سام سنگ نے اس مارکیٹ پر قابض رہ کر صارفین کا اعتماد حاصل کر لیا ہے اور اس کی اس برتری کو آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

بہرحال اب بالآخر سام سنگ کو ٹکر دینے کے لیے گوگل میدان میں آگیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں صارفین کے پاس ایک ساے زیادہ انتخاب دستیاب ہوں گے۔ گوگل کا انتہائی متوقع پکسل فولڈ اب ٹیبلیٹ کی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

پکسل فولڈ واقعی ایک اچھا فون ہے اور اسے دیکھ کر فولڈنگ فونز میں حقیقی پیشرفت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ بہت سارے ایسے شعبے ہیں جہاں یہ سام سنگ سے کافی پیچھے ہے۔ یقیناً اس برتری کی وجہ سام سنگ کا گذشتہ چار سالہ تجربہ ہے۔

پکسل فون کے اس تعارف کا ہمارا مقصد سام سنگ کے گلیکسی زیڈ فولڈ ڈیوائسز کی تین مختلف نسلوں کے مالک ہونے اور زی فولڈ فور کا استعمال جاری رکھنے کے بعد گوگل کی کوششوں کا جائزہ لینا تھا۔

اگرچہ پکسل فولڈ اور زی فولڈ فور ایک ہی مجموعی تصور کا اشتراک کرتے ہیں (ایک عام فون جیسا سائز جو کھلنے کے بعد ایک چھوٹے سائز کے ٹیبلیٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے) لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں کا اپنا الگ انداز ہے۔ سب سے واضح فرق یہ ہے کہ زی فولڈ فور میں پورٹریٹ فرسٹ اپروچ ہے، یعنی جب آپ فون کو کھولتے ہیں تو اسکرین کا ڈیفالٹ موڈ پورٹریٹ اورینٹیشن میں ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پکسل فولڈ 90 ڈگری پر پلٹ جاتا ہے، یعنی جب آپ اسے کھولتے ہیں تو اندر کی اسکرین پر لینڈ اسکیپ اس کا ڈیفالٹ موڈ ہوتا ہے۔

یہ فرق اس تجربے پر نمایاں اثر ڈالتا ہے جو یہ دونوں فون فراہم کرتے ہیں اور بیرونی ڈسپلے کے سائز اور شکل میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

پکسل فولڈ کی اسکرین اورینٹیشن اسے ایک چھوٹی، وسیع اور زیادہ مفید کور اسکرین رکھنے کے قابل بنا دیتی ہے اور اس کے تناسب بہترین ہیں۔ ایپس توقع کے مطابق چلتی ہیں اور اس پر ٹائپ کرنا بھی آسان ہے۔

سام سنگ کی ایک لمبی اور کافی تنگ کور اسکرین ہے، جو خاص طور پر استعمال کے دوران کچھ زیادہ ہی تنگ محسوس ہوتی ہے اور کچھ ایپس کو اس پر اپنی ترتیب کو برقرار رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔

لیکن ایک بار جب آپ پکسل فولڈ کو کھولتے ہیں تو فون کے لینڈ اسکیپ اورینٹیشن پر جانے کی ترجیح اکثر پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ فون میں پہلے سے موجود گوگل کی اپنی ایپس کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ویڈیو دیکھنے یا زیادہ تر گیمز کو کھیلنے کے لیے بھی مثالی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی وقت میں دو ایپس کو اسکرین کے دونوں حصوں پر چلانا بھی ایک اچھا تجربہ ثابت ہوتا ہے۔

لیکن بہت ساری تھرڈ پارٹی ایپس ایسی ہیں جو لینڈ اسکیپ موڈ پر مبنی فون اسکرین کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان ایپس کو مجبوراً پکسل فولڈ پر پِلر باکس ونڈو میں لانچ کرنا پڑتا ہے۔

فون کو 90 ڈگری گھما دینے سے اکثر یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے اور زیادہ تر ایپس پوری اسکرین کا استعمال شروع کر دیتی ہیں۔ لیکن یہ کافی تکلیف دہ  ہو جاتا ہے کہ آپ پورا دن اپنے فون کو مختلف ایپس کے اعتبار سے گھماتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

زی فولڈ فور کی بیٹری لائف بھی پکسل فولڈ کے مقابلے میں زیادہ مستقل اور قابل اعتماد ہے، جسے تقریباً ایک ہفتے کے استعمال کے دوران تقریباً سب ہی معاملات میں بہتر پایا گیا۔ کبھی کبھی اسے پانچ یا چھ گھنٹے کے اسکرین ٹائم کے استعمال کے بعد بھی فوری چارج کی ضرورت نہیں ہوتی؛ مگر عمومی استعمال کے دوران دن میں کسی وقت ایک اضافی چارج لازم ہو جاتا ہے۔ جب کہ پکسل فولڈ کا اسٹینڈ بائی ٹائم واقعی بہت خراب ہے، جس کا مشاہدہ متعدد ٹیسٹ ڈیوائسز پر کیا گیا۔

زیڈ فولڈ میں پکسل فولڈ سے بہتر آواز والے اسپیکر ہیں۔ لیکن دوںوں ہی فونز میں اسپیکر کو ایسی جگہ نصب کیا گیا ہے کہ فون کو پکڑتے وقت آپ کا ہاتھ ان کے اوپر آنے سے آواز کم نہ ہو۔ یہ دونوں چیزیں اس وقت بہت اہمیت اختیار کر لیتی ہیں جب ان فونز کے استعمال کے عام معاملات میں سے ایک یعنی بہت ساری ویڈیوز دیکھنا مقصود ہو۔

پکسل فولڈ کو سام سنگ زی فولڈ فور پر ایک معاملے میں  برتری حاصل ہے اور وہ یہ کہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے، یعنی فون کے دونوں حصے بند ہونے کے بعد درمیان میں کوئی خلاء دکھائی نہیں دیتا۔ بند ہونے پر یہ کافی حد تک پتلا بھی ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے جیب میں رکھنا تھوڑا آسان ہوجاتا ہے۔ خبریں ہیں کہ سام سنگ اگلے مہینے زی فولڈ 5 کی ریلیز کا ارادہ رکھتا ہے جس میں اس خامی کو بھی دور کر دیا جائے گا۔

پکسل فولڈ میں زی فولڈ 4 سے بہتر کیمرہ ہے، اور یہ واقعی کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ کیمرے کے معاملے میں گوگل فونز ہمیشہ ہی سام سنگ سے بہتر رہے ہیں۔

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ سام سنگ بہت سے شعبوں میں گوگل سے آگے ہے۔ اس نے اپنا پہلا فولڈنگ فون 2019 میں ریلیز کیا تھا اور اس کے بعد سے ہر سال اس میں بہتری آتی رہی ہے۔ اور اگرچہ یہ گوگل کی پہلی کوشش ہے، یہ پہلے زی فولڈ ماڈل کے مقابلے میں بہت بہتر فون ہے۔

پاکستان