اہم ترین

لیونل میسی یا کرسٹیانو رونالڈو؟ ایک دہائی پر محیط مسابقت کا خاتمہ

لیونل میسی یا کرسٹیانو رونالڈو ؟ یہ وہ بحث ہے جس نے فٹ بال کے شائقین کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک محظوظ کیا ہے۔

کچھ لوگ دونوں کھلاڑیوں کی تعریف کر کے خوش ہوتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ کسی ایک کھلاڑی کی طرف داری انتہائی پرجوش انداز میں کرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن خود رونالڈو کا کہنا ہے کہ رونالڈو اور میسی کے یورپی ٹیموں سے بالترتیب امریکہ میں انٹر میامی اور سعودی عرب میں النصر میں منتقلی کے بعد ان دونوں کے درمیان مسابقت اب ختم ہو گئی ہے۔

38 سالہ رونالڈو نے پرتگال کے ساتھ یورپی چیمپیئن شپ کوالیفائر میں کھیلنے کی تیاری کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، “میں چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھ رہا ہوں، یہ مسابقت اب ختم ہوگئی ہے۔ یہ ایک اچھا احساس تھا، شائقین نے اسے پسند بھی کیا۔ کرسٹیانو رونالڈو کو پسند کرنے والوں کو میسی سے نفرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دونوں ہی بہت اچھے ہیں، انہوں نے فٹ بال کی تاریخ بدل دی۔”

ریئل میڈرڈ اور بارسلونا وہ ٹیمیں تھیں جن کے لیے رونالڈو اور میسی اسپین میں رہتے ہوئے اپنےاپنے کیریئر کے عروج پر پہنچے جس نے ان دونوں کھلاڑیوں اور ان کے مداحوں کے درمیان مسابقت کو ہوا دی۔

اسپین میں کھیلتے ہوئے اس جوڑی نے دنیائے فٹبال پر غلبہ حاصل کیا۔

میسی نے شاندار چار چیمپئنز لیگ چیمپئن شپ کے ساتھ بلوگرانا سے علیحدگی اختیار کی، لیکن رونالڈو نے پانچ چیمپئن شپس کے ساتھ ہسپانوی فٹ بال کو خیرباد کہا، جس میں لاس بلینکوس کے ساتھ 2016ء سے 2018ء تک مسلسل تین ناقابل یقین فتوحات بھی شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں رونالڈو نے دو لا لیگا چیمپئن شپ جیتی، جب کہ میسی نے مزید 10 کا اضافہ کیا۔

انفرادی اعزازات کے لحاظ سے اس جوڑی نے 2008ء اور 2021ء کے درمیان 13 میں سے 12 بالن ڈی آر ایوارڈ جیتے جن میں سے رونالڈو نے پانچ اور میسی نے سات جیتے۔

رونالڈو نے کہا کہ “دنیا بھر میں ہمارا احترام کیا جاتا ہے، یہ بات سب سے اہم ہے۔ وہ اپنے راستے پر چل رہا ہے، میں اپنے راستے پر چل رہا ہوں۔ میری نظر میں اس نے اچھا کھیل پیش کیا۔ ہم آگے بڑھتے ہیں، میراث جاری ہے، لیکن جہاں تک بات کسی قسم کی مسابقت کی ہے تو میں اسے اس طرح نہیں دیکھتا۔”

انہوں نے مزید کہا، “میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم نے 15 سال تک اسٹیج شیئر کیا اور اب یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے، میں (لیونل میسی کو) دوست نہیں کہوں گا، لیکن ہم ساتھی ہیں اور ہم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔”

پاکستان