اہم ترین

اسرائیل اور حماس کے درمیان دوسرے دن بھی گھمسان کی لڑائی

فلسطین پر قابض اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان دوسرے دن بھی لڑائی جاری ہے۔ دوطرف حملوں میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔۔

حماس نے ہفتے کی صبح اسرائیلی جارحیت کے خلاف “آپریشن الاقصیٰ طوفان” شروع کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل کو گزشتہ 50 سالوں میں اب تک کا سب سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے ۔۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں میں بھرپور حملے جاری ہیں۔ امریکا اور بھارت سمیت تمام استعماری قوتوں کی حمایت کے باوجود اسرائیلی فوج پر حماس بھاری پڑرہی ہے۔۔

اسرائیل کی کئی چیک پوسٹوں پر اب بھی حماس کے جنگجوؤں کا کنٹرول ختم نہیں کرایاجاسکا۔۔ مقامی اسرائیلی میڈیا نے اب تک 600 سے زائد اسرائیلیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے جب کہ 1200 سے زائد زخمی ہیں ۔۔

دوسری جانب اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر بمباری کے نتیجے میں اب تک 400 بے گناہ شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب لبنان سے بھی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے شروع کردیئے گئے ہیں۔۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل میں حماس کے حملوں کے نتیجے میں کئی امریکی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔۔

اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی مکمل ناکام

اسرائیل کے خٖفیہ ادارے ‘موساد’ کے سابق سربراہ ایفریم ہیلوی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کی مکمل ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو پتہ ہی نہیں چل سکا یہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ فلسطینیوں کا پہلا حملہ ہے جس میں اسرائیل کے اندر گھسنے میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔۔

ایفریم ہیلوی نے کہا کہ اسرائیل کو اندازہ ہی نہین ہوسکا کہ حماس کے پاس اتنی بڑی تعداد میزائل موجود ہیں۔۔

ایرانی صدر کا حماس سے رابطہ

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے حالیہ تازہ ترین پیش رفت کے بعد حماس اور اسلامی جہاد کے رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے۔۔

پاکستانی سیاسی قیادت کا موقف

پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھی حماس کی کاررروائی کو اسرائیلی جارحیت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل دو ملکوں کا قیام ہی ہے۔۔

پاکستان